بنگلورو،3؍ جولائی(ایس او نیوز) ریاستی وزیر صحت رمیش کمار نے کہاکہ نجی اسپتالوں پر گرفت کیلئے ریاستی حکومت نے جو مسودۂ قانون لیجسلیچر میں پیش کیاتھا ،اس کا بغور جائزہ لے کر حکومت کو رپورٹ پیش کرنے ایوان کی مشترکہ مشاورتی کمیٹی کی پہلی میٹنگ 6؍ جولائی کو طلب کی گئی ہے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حالیہ لیجسلیچر اجلاس کے دوران نجی اسپتالوں پر کنٹرول کیلئے حکومت کی طرف سے ایک مسودۂ قانون پیش کیاگیا، تاہم حکمران اور حزب اختلاف کے ممبران کی طرف سے بعض اعتراضات کے پیش نظر یہ مسودۂ قانون مشترکہ مشاورتی کمیٹی کے جائزہ کیلئے اسپیکر کی منظوری سے پیش کیاگیا ہے ۔ مدھوگیری کے رکن اسمبلی کے این راجنا اس مشترکہ کمیٹی کے چیرمین ہیں۔ کمیٹی کی پہلی میٹنگ 6؍جولائی کو ہوگی۔ رمیش کمار نے کہاکہ نجی اسپتالوں پر گرفت مضبوط کرنے کیلئے انہوں نے یہ قانون عوامی مفاد میں ترتیب دیاتھا، اس قانون کے نفاذ میں ان کا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے۔ 2007میں اس قانون میں ترمیم لائی گئی تھی۔اس میں بھی حال ہی میں بعض مزید ترمیمات کے ساتھ ایوان میں یہ قانون منظوری کیلئے پیش کیاگیا۔یہ الزام بے بنیاد ہے کہ اس قانون کو حکومت نے عجلت میں پیش کیا ہے، بلکہ عوامی حفظان صحت کو ذہن میں رکھتے ہوئے کافی غور وخوض کے بعد جسٹس وکرم جین سین کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر یہ قانون لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان ترمیمات کی بنیادی طور پر کسی نے مخالفت نہیں کی ، لیکن جلد بازی کی بجائے جامع پیمانے پر غور وخوض کے بعد اسے لاگو کرنے پر اراکین نے زور دیا تو حکومت نے اسے منظور کرتے ہوئے اس بل کو مشترکہ کمیٹی کے سپرد کیا ہے۔ریاست بھر کے سرکاری اسپتالوں میں ماہر ڈاکٹروں کی کمی کااعتراف کرتے ہوئے رمیش کمار نے بتایاکہ ایسے ماہر ڈاکٹر سرکاری اسپتالوں کیلئے کم از کم ایک ہزار درکار ہیں۔ حکومت کنٹراکٹ کی بنیاد پر ان ڈاکٹروں کے تقرر کیلئے تیار ہے، حالانکہ ان ڈاکٹروں کو ایک لاکھ بیس ہزار روپے تنخواہ کی پیش کش کی گئی ہے، پھر بھی یہ ڈاکٹر خدمات کیلئے آمادہ نہیں ہیں۔ اسی لئے محکمہ نے طے کیا ہے کہ ماہر ڈاکٹروں کو سرکاری اسپتالوں کو متعین کرنے کیلئے ان کی تنخواہوں کی بولی لگائی جائے گی، ڈاکٹروں سے سوال کیا جائے گا کہ انہیں کتنی تنخواہ چاہئے، تقرر کے مرحلے میں اسے خاطر میں لایا جائے گا۔ رمیش کمار نے کہاکہ تمام تعلقہ پرائمری ہیلتھ سنٹروں اور ضلعی اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی کو تقریباً دور کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ضلع اسپتالوں میں ایم آر آئی اور سی ٹی اسکیان کی سہولت مہیا کرانے کیلئے ٹنڈر طلب کئے گئے ہیں۔ تمام تعلقہ اسپتالوں میں ڈیالیسس یونٹس قائم کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ ہر پندرہ کلومیٹر کی مسافت پر ریاست میں ایک ایمبولنس متعین رہے گی۔ جنوبی کینرا اور اڈپی ضلع میں انڈو سلفان کے مرض میں مبتلا افراد کے علاج کیلئے کیرلا کے طرز پر معاوضہ ادا کرنے کے مطالبے پر رمیش کمار نے کہاکہ اس کیلئے وزیراعلیٰ سدرامیا کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔کمیٹی کی ہر ماہ میں ایک بار میٹنگ ہوگی، جو معاوضہ کے متعلق غور وخوض کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ انڈو سلفان کے مرض میں مبتلا ہوکر جو بھی چلنے پھرنے کے قابل نہ ہوں ان کو تین لاکھ روپیوں تک کا معاوضہ دیا جائے گا۔اسی طرح کینسر کے مریضوں کی بھی امداد کیلئے ایک نظام متعین کیا گیاہے۔ سرکاری فنڈز سے اس کیلئے سو کروڑ روپیوں کی رقم مہیا کرائی جائے گی، جلد ہی اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سدرامیا سے تبادلۂ خیال کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست بھر میں انڈو سلفان میں مبتلا مریضوں کی تعداد ساڑھے چھ ہزار سے زیادہ ہے۔